اک نظم بحبت کے نام❣️

‏لاکھ ضبطِ خواہش کے
بے شمار دعوے ہوں
اس کو بھول جانے کے
بے پناہ ارادے ہوں
اور اس محبت کو ترک کر کے جینے کا
فیصلہ سنانے کو
کتنے لفظ سوچے ہوں
دل کو اس کی آہٹ پر
برملا دھڑکنے سے کون روک سکتا ہے
پھر وفا کے صحرا میں
اس کے نرم لہجے اور سوگوار آنکھوں کی
خوشبوؤں کو چھونے کی

❣️ عشق ❣️

عشق کب دعاؤں کا محتاج ہوتا ہے
عشق تو لا علاج ہوتا ہے
عشق کےاپنے اصول ہوتے ہیں
عشق کا اپنا رواج ہوتا ہے
عشق کے عین سے عبادت ہے
عشق روح کا اناج ہوتا ہے عشق جسموں کو سر نہیں کرتا
‏عشق کا ذہنوں پر راج ہوتا ہے
عشق میں شاہ فقیر ہوتے ہیں
عشق کانٹوں کا تاج ہوتا ہے عشق میں کوئی حد نہیں ہوتی
عشق میں نہ کل نہ آج ہوتا ہے
عشق خود ہی ظلم کرتا ہے
عشق خود ہی احتجاج ہوتا ہے۔

Create your website with WordPress.com
Get started
%d bloggers like this: